ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ملک بھر میں تبدیلی مذہب کے خلاف قانون لانے کا کوئی منصوبہ نہیں، پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کابیان

ملک بھر میں تبدیلی مذہب کے خلاف قانون لانے کا کوئی منصوبہ نہیں، پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کابیان

Wed, 03 Feb 2021 11:36:21    S.O. News Service

نئی دہلی،3؍فروری(ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ تبدیلی مذہب یا بین المذاہب شادیوں پر پابندی کے لئے ملک گیر قانون لانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے،کیوں کہ یہ ریاستوں کے دائرہ اختیارمیں آتاہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستوں میں اس طرح کےقانون کے نافذکئےجانے کے بیچ مرکزی حکومت کی طرف سے یہ وضاحت سامنے آئی ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ مذہب کی تبدیلی سے متعلقہ معاملات بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں کے اختیارمیں ہیں اور اگر قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی کارروائی کریں گے۔

وزیر مملکت برائے امور داخلہ کشن ریڈی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ آئین کے ساتویں شیڈول کے مطابق ، نظم عامہ اور پولیس ریاست کے اختیارات میں ہیں اورایسے میں تبدیلی مذہب کو روکنا ، معاملہ درج کرنا ، تفتیش کرنااورمقدمہ چلانا بنیادی طور پر ریاستی حکومتوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون کی خلاف ورزی ہونےپرکارروائی کی جاتی ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کا یہ بیان کیرالہ سے تعلق رکھنے والے پانچ کانگریس اراکین پارلیمنٹ کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں آیا ہے ، انہوں نے پوچھا تھا کہ کیا حکومت کو یہ لگتا ہے کہ بین المذاہب شادیوں اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی وجہ سے جبری طور پر تبدیلی مذہب کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اورکیاایسے واقعات کوروکنے کے لئے حکومت کوئی قانون لانے کی تیاری کر رہی ہے۔یہ سوال بی جے پی کی حکمرانی والی ریاست مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں بین المذاہب شادی کو ’ہدف بنا کر‘ لایا گیا تھا۔ ہریانہ ، آسام اور کرناٹک جیسے ریاستوں نے بھی اس طرح کا قانون لانے کا اعلان کیا ہے۔ ان ریاستوں میں بھی بی جے پی کی حکومت ہے۔ اترپردیش اور مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت کی طرح ہریانہ بھی لو جہاد سے متعلق قانون بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈرافٹ کمیٹی کو لو جہاد سے متعلق دیگر ریاستوں کے قوانین کے مطالعہ کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ یوپی اور مدھیہ پردیش کی حکومتوں نے لو جہاد کے مجرموں کو 10 سال سزا دینے کا قانون بنایا ہے۔ لو جہاد سے متعلق قانون بنانے کے مسودہ کمیٹی میں ہریانہ کے ہوم سکریٹری ٹی ایل ستی پرکاش ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نویدیپ سنگھ ورک اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل دیپک منچندا شامل ہیں۔


Share: